تجھ سے جدا ہوئے تو تری یاد بڑھ گئی
آزاد ہو کے قید کی میعاد بڑھ گئی
نہ چھیڑ اے شیخ ہم یوں ہی بھلے چل راہ لگ اپنی
تجھے تو بیویاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں
تو خواب ہی میں سہی آ کے خود جواب تو دے
بجھی بجھی سی مری آرزو کو آب تو دے
وہ بلاتے تو ہیں مجھ کو مگر اے جذبۂ دل
شوق اتنا بھی نہ بڑھ جائے کہ جائے نہ بنے
تھا جس پہ ناز کبھی اب وہ آرزو نہ رہی
نیاز عشق کی پہلی سی آبرو نہ رہی
Post Views: 240