کچھ بھی ان پر اثر نہیں دیکھا
عشق سا بے ہنر نہیں دیکھا
ان کے جوبن کو دیکھ لے جس نے
سرو کو بارور نہیں دیکھا
ایک بجلی نظر میں کوند گئی
ان کو دیکھا مگر نہیں دیکھا
جو کسی دوسرے کے ساتھ چلے
ہم نے وہ ہم سفر نہیں دیکھا
خاک چھانی جہان کی کیا کیا
کوئی اہل نظر نہیں دیکھا
ہم نے اظہرؔ کو لاکھ سمجھایا
پھر بھی اس پر اثر نہیں دیکھا
Post Views: 177