یہ بات ان کی طبیعت پہ بار گزری ہے
کہ زندگی مری کیوں خوشگوار گزری ہے
خوشی سے زندگیٔ غم گزارنے والو
خزاں تمہارے ہی دم سے بہار گزری ہے
نہیں اٹھائے ہیں اپنوں کے بھی کبھی احساں
ہزار شکر کہ بیگانہ وار گزری ہے
دل غریب کو گھر کا ہوا نہ چین نصیب
اسے تو عمر سر رہ گزار گزری ہے
نشیمن اپنا ہے پھر برق و باد سے سرشار
نئی بہار بھی کیا سازگار گزری ہے
کوئی مسرت لذت مجھے نہ درد کا غم
مری تو زیست ہی مستانہ وار گزری ہے
یہ سادگی تو ذرا دیکھیے وہ پوچھتے ہیں
کہ زندگی تری کیوں بے قرار گزری ہے
میں اپنے دعوائے الفت سے آج باز آیا
گزر گئی ہے مگر شرمسار گزری ہے
Post Views: 152